''ماہِ رمضان وہ (مہینہ) ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس سے توبہ کرتا ہوں ۔ رمضان المبارک رمضان اسلامی سال کا نواں قمری مہینہ ہے۔ اس کا تلفظ یوں ہے: رَ مَ ضَ تینوں مفتوح (زبر کے ساتھ) جبکہ الف ساکن ہے یعنی رَمَضَان ۔ یہ رمض سے مشتق ہے جو باب ضَرَبَ یَضْرِبُ، نَصَرَ یَنْصُرُ اور سَمِعَ یَسْمَعُ سے مصدر آتاہیـ اس کا معنی شدید گرمی، دھوپ کی شدت سے تپ جانے والی زمین یاپتھر، نیزے کی نوک کو تیز کرنا اور گرمی کی شدت سے کسی کا جلنا وغیرہ آتاہے۔ علامہ راغب رحمة اللہ علیہ اصفہانی فرماتے ہیں : ''یہ رمض سے مشتق ہے جس کے معنی سورج کی سمت تپش کے ہیں ۔ اَرْمَضَتْه سخت تپش نے اسے جلا دیا، فَرَمَضَ چنانچہ وہ جھلس گیا۔ اَرْضُ رَمْضَةٍ سخت گرم سرزمین۔ گرمی میں باہر چرنے کی وجہ سے بکریوں کے جگر زخمی ہوگئے۔'' 1 اسی طرح دیگر کتب ِلغت میں ہے: رمض الشيء کسی چیز کی حرارت سخت ہونا۔ رمض الیوم دن کابہ...